Sora e al baqra 45 explained
سورۃ البقرہ
، آیت نمبر 45 کی اردو میں تفسیر
آیت کا ترجمہ: "اور مدد طلب کرو صبر اور نماز کے ساتھ اور بے شک نماز ایک بھاری/مشکل کام ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر نہیں"۔
https://www.facebook.com/share/v/1aMWJF78FD/
مختلف مفسرین کی تفاسیر:
ابن کثیر:
• صبر اور نماز سے مدد: امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ہر مشکل اور پریشانی میں صبر اور نماز سے مدد حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔
• نبی کریم ﷺ کا عمل: وہ ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس میں بیان ہے کہ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی مشکل پیش آتی تو آپ ﷺ نماز کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔
• خشوع کی اہمیت: نماز اُن لوگوں پر گراں ہوتی ہے جو خشوع و خضوع سے خالی ہوتے ہیں، لیکن جو لوگ اللہ سے ڈرنے والے اور اس کے سامنے عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ بہت آسان ہو جاتی ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن):
• صبر اور نماز کا مقصد: مودودیؒ کے مطابق، اگر کسی کو راستے پر چلنے میں مشکلات پیش آئیں تو ان کا حل صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد مانگنے میں ہے۔
• صبر کا مفہوم: وہ صبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے اپنی خواہشات اور بیرونی مخالفت کے باوجود کسی بھی حالت میں حق کے راستے پر ثابت قدم رہنا۔
• نماز کی اہمیت: ان کے نزدیک نماز اس صبر کو مزید تقویت دیتی ہے، کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ انسان کے تعلق کو مضبوط کرتی ہے۔
علامہ پیر کرم شاہ الازہری (تفسیر ضیاء القرآن):
• قلبی سکون اور قوت: پیر کرم شاہ فرماتے ہیں کہ جب انسان کسی مصیبت میں گھرا ہو تو صبر اسے قلبی سکون اور قوت دیتا ہے، جبکہ نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کو پریشانیوں سے نکالنے میں سب سے بڑی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
• نماز کی لذت: وہ اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ گناہوں اور خواہشات میں گرفتار دلوں پر نماز بھاری ہوتی ہے، لیکن جو دل اللہ کی محبت اور خوف سے بھرے ہوتے ہیں، ان کے لیے نماز بوجھ نہیں بلکہ روحانی سکون اور لذت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
مفتی محمد شفیع (معارف القرآن):
• خشوع کی اصل: مفتی محمد شفیعؒ، ابراہیم نخعیؒ کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ خشوع صرف ظاہری عاجزی کا نام نہیں، بلکہ دل کی سچی حالت کا نام ہے۔
• اخلاص کی علامت: ان کے مطابق، جو لوگ سچے دل سے خشوع اختیار کرتے ہیں، ان کے لیے نیک اعمال آسان اور خوشگوار ہو جاتے ہیں۔ یہ خشوع بعض اوقات انسان کے ظاہری رویے میں بھی نمایاں ہوتا ہے۔
خلاصہ
یہ تفاسیر اس بات پر متفق ہیں کہ:
• صبر اور نماز مصائب اور مشکلات میں اللہ کی مدد حاصل کرنے کے دو اہم ذرائع ہیں۔
• صبر کا مطلب ہے استقامت اور ثابت قدمی۔
• نماز کا مقصد اللہ سے تعلق قائم کرنا اور روحانی قوت حاصل کرنا ہے۔
• خشوع (عاجزی) ایمان والوں کے لیے نماز کو آسان بناتی ہے، جبکہ بے ایمان اور غافل لوگوں کے لیے یہ ایک بھاری بوجھ ہوتی ہے۔
Comments
Post a Comment